منگلورو13؍ فروری(ایس او نیوز) ریاست میں اسمبلی انتخابات قریب آگئے ہیں، آنے والے آٹھ نو مہینوں میں ریاستی اسمبلی الیکشن کا قومی امکان ہے اس الیکشن میں جے ڈی ایس کو اکثریت حاصل نہ ہونے کا نتیجہ آجائے تو ایسی صورت میں مخلوط حکومت بنانے کی کوشش نہیں کروں گا، بلکہ پھر ایک بار عوام کی خدمت میں جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ان خیالات کا اظہار جے ڈی ایس کے ریاستی صدر کمارسوامی نے کیا۔ اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہو ں نے کہا کہ ریاستی مسائل پر توجہ نہ دئے جانے کی وجہ سے عوام تبدیلی کی سوچ رہے ہیں۔ کمارسوامی نے کہا کہ بی جے پی ریاستی صدر ایڈی یورپا کانگریس پر الزام عائد کررہے ہیں کہ وہ ہائی کمانڈ کو رشوت دے رہے ہیں لیکن ایڈی یورپا بھول رہے ہیں کوہ بھی چک کے ذریعہ ہائی کمانڈ کو خطیر رقم روانہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق ریاستی وزیراعلیٰ ایس ایم کرشنا ایک تجربہ کار کہنہ مشق سیاستدان ہیں، وہ بھی جو بھی فیصلہ کئے ہوں گے انتہائی دانشمندی سے کئے ہوں گے۔ ایس ایم کرشنا کو جے ڈی ایس میں شامل کرنے کے سلسلہ میں غور وفکر نہیں کیاگیا ہے۔ کمارسوامی نے ریاستی بی جے پی پرطنزکرتے ہوئے کہاکہ150؍ سیٹوں پر یقینی جیت لے ڈھنڈورا پیٹنے والے ایس ایم کرشنا کو اپنی پارٹی میں شامل کرنے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں، ریاستی حکومت پر تبصرہ کرتے ہوئے کمارسوامی نے کہا کہ ریاست میں انتہائی سست وکاہل حکومت انتظامیہ چلارہی ہے، آئندہ اسمبلی الیکشن میں جے ڈی ایس اکثریت سے جیت حاصل کرتے ہوئے برسراقتدار آجانے تو پڑوسی ریاستی میں اٹھائے گئے اقدامات کی طرح یہاں بھی یتنا ہولے منصوبے کو جاری کیا جائے گا جس سے پینے کے پانی کی قلت کی شکایت ختم ہوگئی ۔یتناہولے نامی منصوبے سردخانہ میں رکھا ہوا ایک بہت بڑا بدعنوان رشوت خور منصوبہ ہے۔ جب بی جے پی برسراقتدار تھی تواس اس وقت اس منصوبہ کو منظوری دی گئی۔ اس لئے اب اس منصوبے کی مخالفت میں احتجاج کرنے کا حق بی جے پی کو نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم برسراقتدار آئیں گے تو یتناہولے بدعنوان میں ملوث افراد کو بے نقاب کریں گے۔